Free Twitter Followers

ملک لاک ڈاؤن، فوج تعینات، سندھ اور بلتستان کے بعد پنجاب اور آزاد کشمیر کا باقاعدہ اعلان، اسلام آباد، بلوچستان اور کے پی میں بھی سخت پابندیاں

کراچی- اسلام آباد- لاہور- سکھر [اسٹاف رپورٹر، نامہ نگاران،ٹی وی رپورٹ] کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر پورا ملک لاک ڈائون ہوگیا ہے- سندھ و گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر اور صوبہ پنجاب میں بھی لاک ڈائون کر دیا گیا۔
آزاد کشمیر میں 3 ہفتوں کیلئے جبکہ پنجاب میں 2 ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے- خیبر پختونخواہ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی فوج طلب کر لی گئی اور عوام میں آگاہی مہم شروع کر دی گئی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی پانبدیاں سخت کر دی گئی ہیں۔
کراچی- حیدرآباد- سکھر- ٹنڈو آدم- خیرپور- سمیت سندھ میں لاک ڈائون رہا- سندھ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 472 افراد کو گرفتار اور 72 مقدمات درج کیے گئے، صرف کراچی میں 222 افراد گرفتار اور 33 مقدمات درج ہوئے ، کئی مقامات پر پولیس نے شہریوں کو قانون کی خلاف وزی پر مرغا بنا دیا۔
تاہم زیادہ شہری گھروں تک محدود رہے- لاک ڈائون کے باعث سڑکیں سنسان رہیں-
تاہم میڈیکل اسٹور اور اشیاء خورد نوش کی دکانیں کھلی رہیں۔
 وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کے ریٹائرڈ ملازمین کو جلد پنشن جاری کرنے کی ہدایت جاری کردی،تنخواہ و پنشن کے علاوہ تمام ادائیگیاں روکنے کی ہدایت بھی کردی ۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پرقابو پانے تک سندھ کے ماہانہ قرضے کی کٹوتی نہ کی جائے۔
دوسری جانب بلوچستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی ہے جبکہ مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 884 تک جا پہنچی ہے۔
سندھ میں 394؍ پنجاب میں 246؍ خیبرپختونخوا میں 38؍ گلگت بلتستان میں 80؍ اسلام آباد میں 15؍ اور بلوچستان میں 110؍ افراد کرونا وائس میں متاثر ہوچکے ہیں، اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارلحکومت کے علاقے بارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے 6 افراد میں کورونا کی تصدیق کر دی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے آئندہ 14 روز کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا۔ 
کراچی، حیدرآباد، سکھر، شکارپور، میرپورخاص کی مختلف شاہراہوں پرفوج ، رینجرز اور پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔کراچی میں مختلف مقامات پر کنٹینر لگا کر روڈ بند کر دیئے گئے ہیں، ماڈل کالونی سے ایئر پورٹ جانے والے روڈ کو گاڑیوں کیلئے بند کیا گیا ہے جبکہ ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی جانے والے روڈ کو بھی بند ہے۔شاہ فیصل کالونی میں بھی رینجرز اہلکار کے علاوہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران بینک اپنی تمام سروسز جاری رکھیں گے، عوام کو بجلی، پانی، ٹی وی کیبل، انٹرنیٹ،اور ٹیلی کام سروسز بلا تعطل ملتی رہیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران سندھ بھر میں سبزی، کریانہ اور میڈیکل اسٹورز کو استثنیٰ حاصل ہے۔ نواب شاہ ،جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ اور شکار پور کے بھی بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، پڈ عیدن، نوشہروفیروز ، گھوٹکی اور اوباڑو میں بھی لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ 
ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق مراد علی شاہ نے ریٹائرڈ ملازمین کو 25 مارچ سے پینشن کی ادائیگی کیلئے محکمہ فنانس کو ہدایات جاری کردیں۔ 
وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام اخراجات کنٹرول کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں تنخواہ و پینشن کے علاوہ تمام ادائیگیاں روکنے کی ہدایت کردی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے گریجیویٹی، ایکیشمینٹ، اور ایل پی آر وغیرہ کی ادائیگیاں فی الحال روک دیں جسکے بعد محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل کو خط لکھ دیاہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مقامی طور پرکورونا کے ٹرانسمیشن کیسز کی تعداد روکنے کیلئے لاک ڈائون کا سخت فیصلہ کیا گیا ، محکمہ صحت نے اب تک 3450 ٹیسٹ کیے ہیں ، ان میں سے 3020 منفی قرار دیئے گئے ہیں جبکہ 394 مثبت آئےے ہیں ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پورے سندھ میں کام کرنے والے 10 اسپتالوں میں کورونا وائرس کے نمونوں کے ٹیسٹ کی مجموعی گنجائش 1200 یومیہ ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 394 ہوگئی ہے ۔ 
صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق پیر کو کراچی میں تین کیس سامنے آئے جبکہ سکھر میں 39 زائرین میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ نئے کیسز کے بعد کراچی کے کیسز کی تعداد 133 جبکہ سکھر کی تعداد 260 ہوگئی ہے اس کے علاوہ ایک مریض دادو میں ہے ۔ اس طرح مجموعی طور پر کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 394 ہوگئی ہے جن میں سے چار مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک مریض جاں بحق ہو گیا تھا۔ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے کیسز میں سے 88 افراد وہ ہیں جنہیں مقامی طور پر وائرس منتقل ہوا جو خطرے کی بات ہے کیونکہ اب وائرس مقامی طور پر منتقل ہو رہا ہے اس لئے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ 
ادھر اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارلحکومت کے علاقے بارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے 6 افراد میں کورونا کی تصدیق کر دی۔
اے ایس پی بارہ کہو حمزہ امان اللہ نے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے 6 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے،جماعت میں شریک باقی 6 افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں،تمام علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا ،ضلعی انتظامیہ اہل علاقہ کے ٹیسٹ کروائے گی۔
Oldest